اُردو ہے جِس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زُباں کی ہے

1.07.2006

کچھ کہانی سنیاسی باوا کی

آج شیخو صاحب کے بلاگ پر فائزر (Pfizer) کی جانب سے انڈیا میں ویاگرا (VIAGRA) کے متعارف کروانے کے بارے میں پڑھنے کو ملا۔ ان کی بلاگ پر لکھی پوسٹ کے مطابق دوا بنانے والے کمپنی فائزر نے سروے کیا ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ ہندوستان کے تقریبا ساڑھے سات کروڑ مردوں میں قوت باہ کی کمی ہے۔ اس لحاظ سے انڈیا میں ویاگرا کو بہت ہی جلد مقبولیت حاصل ہونے کا امکان ہے۔
یہ پڑھ کر مجھے دو دلچسپ واقعات یاد آگئے۔پہلا تو یہ کہ جب VIAGRA دنیا میں متعارف ہوئی توفورا ہی پاکستان میں اسوقت کی حکمران پارٹی کے ممبرانِ قومی اسمبلی اس دوا کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لئے حکومتی سطح پر کوشاں ہو گئے۔ اب مجھے نہیں معلوم کے اپنے تیئں اُن کی مشینری واقعتا“ اتنی ہی ناکارہ تھی کہ انہیں اِس دوا کی اشد ضرورت پڑگئی یا وہ عوام کی فلاح کے لئے اس کام میں بھرپور دلچسپی کا مظاھرہ کر رہے تھے۔ حضرتِ ْجْ کا خیال ہے کہ اس کے بین عوام کی امنگوں سے زیادہ لذتِ شہوانی کی تابانی اور ضوفشانی کا عنصر کارفرما تھا۔
اب دوسرا واقع بھی سنیئے جو اگرچہ مزاح سے بھرپور ہے مگر بحثیتِ قوم ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ١٩٩٢ کے اواخر کی بات ہے۔ ابھی مجھے گورنمنٹ کالج لاھور (GC) سے ایم اے معاشیات کا قطعی (Final) امتحان دیئے دس ماہ کا عرص گزرا تھا، کہ میں جی سی میں معاشیات کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر خالد آفتاب (حالیہ رئیسِ دانشگاہ -یعنی وائس چانسلر) کے توسعت سے پنجاب کے چھوٹے صنعتی اداروں(Punjab Small Industries Corporation) کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ تیار کرنے کے لئے متعین ہوا۔ یہ کام عالمی ادارہ برائے محنت کشا(International Labor Organization, Geneva) کے تعاون سے جناب عمر اصغرخان صاحب (اللہ ان کی مغفرت کرے) کے تحقیقی ادارے (SEBCON) کو ملا تھا۔ اس کام کے لئے میں اپنی نگرانی میں تحقیق کاروں کی ایک جماعت لئے لاھور سے ڈیرہ غازی خان تک پھیلے چھوٹے صنعتی اداروں کے جائزے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی ہم لاہور، گوجرانوالہ، اور شیخوپورہ سے ہوتے ہوئے فیصل آباد کے صنعتی اداروں تک پہنچے تھے کے ہمیں اطلاع دی گئی کہ (ILO) کے ایک صاحب جرمنی سے ہماری کارکردگی جانچنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ چنانچے ہم واپس لاہور آئے اور جرمن تحقیق کار مسٹر فرینک (Frank) کو لئے پھر چل کھڑے ہوئے۔ فرینک صاحب کے ذمے یہ کام تھا کہ ہم تحقیق کاروں کی خوب چھان پھٹک کریں اور سب اچھا ہے کی رپورٹ (ILO) سرکار کو دیں۔ فرینک صاحب نے ہمارے ساتھ تین دن اور چار راتیں گزاریں اور لاھور سے لے کر ٹوبہ ٹیک سنگھ (جس کے حوالے منٹو صاحب کا افسانہ بھی ہے) تک کا سفر کیا۔ راستے میں ایک مقام پر فرینک نے سڑک کے کنارے ایک چار دیواری کی طرف اشارہ کیا اور بولا۔
Do you know what is written on these walls? We have travelled almost more than 200 miles so far through different villages, towns, and cities but it seems to me that same thing is written on these walls from Lahore upto here. I believe it is an advertisement and it must be something very special because it appears to me that same script is written again and again.

ہماری شامت اعمال دیکھئے ہم نے بلا سوچے سمجھے سینہ ٹھونک کر کہا؛
Yes! you are right Mr. Frank, It is the same advertisment again and again.
Must be something very popular... what does it mean Frank asked curiously
ہمارے ہمراہیوں نے عین اس موقع پر ہمیں کہنی سے ٹھونکا لگایا جسکا مطلب یھ تھا کہ بات گول کر جاؤ۔ لیکن ہم کہاں ٹلنے والے تھے۔ چنانچہ فورا“ اپنی انگریزی کی قابلیت جھاڑنے کی خاطر نوشتہَ دیوار کا بعین رواں ترجمہ کر ڈالا۔۔۔
It says that if you are impotent or have sexual and marital troubles do not hesitate come straight to hundered year old Sunaisee Bawa who has cure for everything.
یہ سننا تھا کہ فرینک کا قہقہہ چھوٹ گیا۔ اور وہ ہنستا ہی چلا گیا۔ پہلے تو ہم بہت خوش ہوئے کہ اسے ہمارا ترجمہ پسند آیا ہے۔ لیکن جب اس کی ھنسی کسی طرح نہ تھمی تو ہمیں شک گزرا کے معاملہ گڑبڑ ہو گیا ہے۔ ہم نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
What's Wrong man? I asked...
Frank paused his laughter and responded....I have seen this Ad in Rawalpindi as well .... the way this Ad is splattered across the walls from Lahore to Faisalabad it seems to me that whole Pakistani Nation is impotent. After saying this his pause bursted into another laughter.
یہ سننا تھا کہ ہم پہ گھڑوں پانی پڑ گیا اور اب کی بار ہمارے ہمراہیوں نے قہقہہ لگایا اور کہا اور ترجمہ کر کہ بتاؤ ۔۔۔سن لیا ساری قوم ہی نامرد قرار ہو گئی ہے۔۔۔۔۔!

خیر امریکہ میں آنے کا یہ فائدہ تھا کہ جنسی تعلیم عام ہے اور کوئی چیز چھپا کر نہیں پڑھنی پڑتی۔ اگر کوئی چیز باعثِ شرم ہے تو وہ لاعلمی ہے۔ میں نے باقائدہ اس معاملے پر تفصیل سے پڑھا اور معلوم ہوا کہ قوت باہ کا مسئلہ نفسیاتی زیادہ اور طبعی کم ہے۔ اور یہ بات ہمارے مشرقی معاشرے میں خاص طور پر صادق آتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اسلامی روح کے حوالے سے جو باتیں والدین کے ذریعہ اولاد تک پہنچنی چاہیں وہ اناڑی دوستوں، اشتہاروں، اور تھڑے کی مفحلوں سے نوجوانوں تک پہنچتی ہیں۔ اور بلاشبہ پاکستان میں کئی نوجوانوں کو شادی سے پہلے حبِ خاص اور طلائے مغلظ استعمال کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ آج بھی فرینک کا جواب سوچتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سنیاسی باوا سے لے کر فائزر (Pfizer) تک سبھی نے سادہ لوح عوام کو بےوقوف بنایا ہے۔ اور ناتجربہ کار نوجوان سب سے زیادہ ان کے ہاتھوں چڑھتے ہیں۔۔۔۔۔ ارے بھائی سبزی کھاؤ، ورزش کرو، اور دماغ تازہ رکھو۔۔۔ تو باقی سب ٹھیک ہے۔
سنیاسی باوا حصہ دوئم
شیخو صاحب کے تبصرے کے جواب میں اضافہ کر رہا ہوں۔
تبصرہ: ۔ویسے ایک بات ہے ذہنی بیماری تو اپنی جگہ ہے مگر کچھ لوگ واقع میں ٹائیں ٹائیں فش ہوتے ہیں۔شائد کہ بچپن کی غلطیوں کی وجہ سے ،ان کے لئے ویاگرا بہت ضروری ہے۔
ارے شیخو بھائی یہی بات تو میں سمجھانا چاہ رہا ہوں۔ اب بات چل ہی نکلی ہے تو کوشش کروں گا کہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے علمی مقصد پورا کروں۔ بچپن کی غلطی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس چیز کو بچپن کی غلطی کہہ کر عطائی حضرات نوجوانوں کو ذہنی مریض بناتے ہیں اسی چیز کو مغرب میں صحت مند رحجان قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس مقصد کے لئے لوگ ویاگرا استعمال کرتے ہیں وہ مقصد بعض اعضائے رئیسہ کی ورزش سے پورا ہو سکتا ہے۔ ہمارے یہاں اعضائے رئیسہ کی ورزش کے حوالے کئے جانے والے بعض مخصوص کاموں کو بچپن کی نادانی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ویاگرا کو سرعت کے سدباب کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو پاکستان میں عطائی اور حکما سرعت کا باعث بتاتے ہیں یہاں اس کو سرعت کا قدرتی علاج گردانا جاتا ہے۔ ایسی ورزشوں سے انسان بدن میں اٹھنے والی کیفیات اور بہجت آفرینی کو نہیں دبا سکتا اس لئے ہمارے یہاں ان چیزوں کو بے راہ روی کا آغاز خیال کرتے ہوئے برا سمجھتے ہیں۔ جبکہ مغرب میں ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ اعضائے رئیسہ کی مخصوص ورزشوں کے دوران اگر انسان اپنی بہجت آفرینی کو کنٹرول کر پائے اور طول دے تو وہ قدرتی طریقے سے وہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو لوگ طبی طریقے سے حاصل کرتے ہیں۔ اور قدرتی طریقہ علاج کی نتائج زیادہ دیرپا ہیں۔ آپ نے سنا ہو گا کہ اکثر لوگ ویاگرا کے استعمال کے بعد اپنے زوجی فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے دل کی دھڑکن بند ہونے کی سبب ہلاک ہو گئے۔ ایسی دوا کا کیا فائدہ جس کے مزا لینے سے پہلے انسان مزے کے احساس سے مبرا ہو جائے۔ ہاں اگر ویاگرا کے استعمال سے بدفعل و بدعنوان سیاستدانوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو بڑے شوق سے اسے متعارف کرایئے بلکہ ڈاکٹروں کے ہاں تحریک چلائیے کہ وہ زور و شور سے یہ دوا بد عنوان سیاستدانوں کو تجویز کریں بلکہ مفت تجویز کریں (خیر سیاستدان تو ویسے بھی عوام کے ٹیکس پر پلتے ہیں)۔ ہاں یہ ہے کے اگر انسان صرف منتہائے شوق و لذت میں پڑ جائے تو بے راہ روی کا خطرہ رہتا ہے اسی لئے ہمارے معاشرے میں ان چیزوں پر بحث نہیں کی جاتی۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو Kegel کے نام سے ورزش کے بارے میں دیکھئے۔

کچھ باتیں محسنوں اور دل جلوں کی:تعداد4

Blogger Mominنے کہا...بتاریخ و بوقت1/08/2006 2:56 PM

zubaan e khalq ko naqqaare khuda samjho. Kuch to hai jis ki parda dari hai

 
Blogger شعیب صفدرنے کہا...بتاریخ و بوقت1/10/2006 8:43 AM

عید مبارک

 
Anonymous شیخونے کہا...بتاریخ و بوقت1/10/2006 2:20 PM

واہ مزا آ گیا صاحب۔کیا خوب لکھا ہے۔ویسے ایک بات ہے ذہنی بیماری تو اپنی جگہ ہے مگر کچھ لوگ واقع میں ٹائیں ٹائیں فش ہوتے ہیں۔شائد کہ بچپن کی غلطیوں کی وجہ سے ،ان کے لئے ویاگرا بہت ضروری ہے۔

 
Anonymous زبانِ شیریںنے کہا...بتاریخ و بوقت1/11/2006 1:21 AM

۔۔۔مومن صاحب جب جنگل سے لوٹیں تو خبر دیجئے گا کہ برف میں کیمپنگ کیسی رہی آپ سے مزید بحث تو تبھی ہو گی۔ پردہ داری کے حوالے سے تو یہ کہوں گا کہ احادیث میں بہت سے مسائل واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ان پر بھی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ابھی جو بات میں کرنے لگا ہوں وہ بالکل علمی حوالے سے ہے شاید بہت سوں کا بھلا ہو جائے چنانچہ اسے مذاق نہ سمجھا جائے۔ مثلا احادیث میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے جبکہ ہمارے یہاں صنفِ نازک بالکل بھی صفائی اور پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتیں۔ میرے اکثر ہم جماعت یونیورسٹی میں پاس موجود لڑکیوں کے بارے میں اشارے کنائے سے بتاتے تھے کہ فلاں اپنے ایامِ مخصوص میں ہے اور ڈپریشن کی وجہ سے معمولی بات پہ غصے میں آ سکتی ہے سو بچ کے رہیں۔ اب لڑکوں کو کیسے معلوم ہوتا تھا۔ حساب سیدھا ہے۔۔۔صنفِ نازک کی جانب سے صفائی کا خیال نہ رکھنا نقارے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ بہت سی لڑکیوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ایامِ کے دوران صفائی کے لئے پانی کا استعمال بالکل نہیں کرنا تاوقتیہ کہ حوا کی بیٹیاں سختی کے دن پوری طرح نہ جھیل لیں۔ اور غالبا“ ایسی بہت سی غلط باتیں بہشتی زیور میں درج کر دی گئی ہیں اور ہمارے ہاں اس کتاب کو ایمان کا جزو قرار دے دیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کے پانی کے استعمال سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور گرم پانی بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اب مغرب میں رہتے مجھے آٹھ سال ہو گئے لیکن آجتک کسی گوری کے بارے میں یہ پیشن گوئی نہین کر سکا کہ وہ سختی میں ہے۔ البتہ کچھ ماہ قبل یونیورسٹی میں اپنی ایشائی لڑکیوں کی موجودگی میں میرا سر شرم سے جھک گیا کہ انھوں نے یہاں آنے کے بعد بھی اپنی روش نہ بدلی تھی۔ حالانکہ مغرب میں عورتوں کے لئے بہت سہولت ہے، طہارت خانے میں لگی مشینوں میں سکے ڈالنے سے طہارت کا سامان نکل آتا ہے۔ اور تو اور یہاں پر ایک اسلامی لیکچر کے دوران مسلمان سکالر نے عورتوں کے سوالات کے دوران اسلام کے حوالے سے مخصوص مسائل پر روشنی ڈالی اور کسی نے شرم محسوس نہ کی بلکہ اس بحث کو علمی حوالے سے ہی لیا گیا۔ ہمارے پاکستان میں تو ان مسائل پر گفتگو تو کجا سوال جواب کو برائی سمجھا جاتا ہے یا پھر ہنسی اڑائی جاتی ہے۔
۔۔۔شعیب آپ کو بھی عیدِ سعید مبارک
۔۔۔شیخو بھائی! جناب آپ کی اس بات کے جواب کے لئے اوپر پوسٹ میں ہی اضافہ کر رہا ہوں۔

 

Post a Comment

کچھ تعلقات اس حوالے سے:

Create a Link

صفحہ اول کو۔۔: Home <<